Be Specific About Books As Ghulam Bagh / غلام باغ
| Original Title: | غلام باغ |
| Edition Language: | Urdu |
Mirza Athar Baig
Hardcover | Pages: 878 pages Rating: 4.25 | 116 Users | 12 Reviews

Declare Appertaining To Books Ghulam Bagh / غلام باغ
| Title | : | Ghulam Bagh / غلام باغ |
| Author | : | Mirza Athar Baig |
| Book Format | : | Hardcover |
| Book Edition | : | 2nd |
| Pages | : | Pages: 878 pages |
| Published | : | December 2007 by Sanjh Publications (first published October 2006) |
| Categories | : | Fiction. Novels. Cultural. Pakistan |
Narration Supposing Books Ghulam Bagh / غلام باغ
یہ ناول اپنے انداز و بیاں اور زبان کے اعتبار سے اردو ادب میں اپنی طرز کا ا ایک انوکھا تجربہ ہے۔ مرزا صاحب نے لسانیات کے جو تجربات اس میں کیے ہیں وہ داد دینے کے قابل ہیں۔ ایک ناول نہیں ایک اہنٹی ناول ہے۔ یہ قاری کو ایک علیحدہ دنیا میں لے جاتا ہے اور آپ کو انرد تک جنجھوڑتا ہے۔یہ ایک انتہائی مشکل ناول ہے ۔ پہلا اس کا کی زبان مشکل ہے۔ اردو اصطلاحات کو بہت ہی غیر رسمی اور تخلیقی پیرائے میں استعمال کیا گیا ہے کہ قاری کا ذہن کچھ دیر کے لیے سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ دوسرا اس میں کچھ مابعد الجدیدیت اور فلسفہ کے انتہائی اہم امور کی چھیڑا گیا ہے۔ متن کیا ہوتا ہے، اور قاری کیا ہوتا ہے۔ کیا کوئی ایک ہی کتاب لکھنا ممکن ہے، اگر اصل طاقت قاری یا پاڑی کے ہاس ہوتی ہے تو لکھاری کی کیا اوقات ہے، کیا حقیقت کا زبان سے باہر کوئی وجود ہے بھی یا نہیں، اگر ہے تو کیا ہے، کسی شخص کو کب یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی زبان حقیقت کی صحیح عکاسی نہیں کرتی، اورا گر آپ کی زبان اور حقیقت کا رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر بندہ کیا کرے۔ کیا تیس چالیس ہزار الفاظ کی وکیبلری پر اترانا ٹھیک ہے؟
دوسرا یہ کتاب کیا ہوتی ہے، کیا کتاب وہ ہوتی ہے جو لکھاری کے ذہن میں ہوتی ہے یا وہ جو قاری یا پاڑی پڑھتا ہے۔ کیا حقیقت کا کوئی وجود ہے بھی یا یہ صرف ایک لسانی تشکیل ہے۔ کیا فلسفے کے اکثر مسائل صرف لسانی تو نہیں۔
کیا ایک لکھاری کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی کتاب صرف اپنے لیے لکھے اور اس کا صرف ایک مطلب اخذ کرے۔ کیا وہ اپنی کتاب کو کہہ سکتا ہے کہ " یہ ایک کتاب نہیں ہے" کیا وہ اپنی تحریر کو کہہ سکتا ہے کہ یہ لاتحریر ہے۔
بطور ایک لکھاری کے مجھے ناول یا کہانی لکھتے ہوئے ہمیشہ یہ معمہ درپیش رہا کہ میں پڑھنے والے کو اپنے کرداروں کی کیفیات یا گردو نواح کے بارے میں کیسے بتاؤں اس ناول میں اس پر بھی بہت شاندار بحث کی گئی۔ یعنی کہانی لکھنے کے دو بڑے طریقے ہیں پہلا یہ کہ آپ خدا بن کر ہر کردار کے ذہن میں جھانکیں اور اپنے قارئیں کو بھی وہاں لے جائیں دوسرا کسی ایک کردار کی آنکھ سے سب کچھ دکھائیں۔ کبھی کبھی ناولوں اور کہانیوں میں جو اوٹ پٹانگ صورتحال پیدا کی جاتی ہے اسکا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح قاری کو کردار کی کیفیت کے بارے میں بتایا جائے۔ اور بتایا بھی ایسے جاتا ہے کہ چھپانے کا ایلیمنٹ بھی رہے۔
یہ ناول ہماری اخلاقی حساسیت ہر بھی گہری ضرب لگاتا ہے۔ اس ناول نے سکھایا کہ یہ جو دو ٹکے کی اخلاقیت اور حساسیت کا ڈھونگ اور دائرہ ہم اپنے کرداروں کے گرد کھینچتے ہیں وہ ہمارا اپنا بنایا ہوا ہے۔ ہمارے کرداروں کے بارے میں کوئی بھی کردار گندہ سوچ بھی سکتا ہے اور اس ہر عمل پیدا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ جو الفاط کے پاک پوتر رشتے ہم نے قائم کیے ہوئے ہیں یہ بھی ہمارا دکھاوا ہی ہے۔
ناول کی تھیم چار کرداروں کے گرد گھومتی ہے جس میں اول اور سب سے دلچسپ کبیر مہدی ہے جو مختلف قلمی ناموں سے دائجسٹوں میں اول فول لکھتا ہے اور ہر وقت بک بک کرتا رہتا ہے۔ اس کی ایک ہی تمنا ہے کہ زندگی میں کوئی بڑی کتاب اپنے اصل نام سے شائع کروائے
دوسرا ناصر ہے جو ایک ہاؤس سائیکیٹرسٹ ہے
ہاف مین جو جرمن آرکیالوجسٹ ہے جو غلام باغ پر تحقیق کر رہا ہے
زہرہ جو اس تلاش میں ہے کہ اس کی اصل پہچان کیا ہے، زیرہ کے باپ نے مردانہ طاقت بڑھانے کا ایک ایسا نسخہ پالیا ہے جس کی ذریعے وہ اشرافیہ میں اپنا اثر رسوخ بڑھا چکا ہے
اپنی تمام تلخیوں کے باوجود یہ کتاب ہنسا ہنسا کر پاگل کردیتی ہے ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا میں ابن انشاء یا مشتاق یوسفی کے مزاح کے علاوہ اتنا یہنسا ہوں۔ اور یہ مزاح مکمل طور پر صورتحال کی ایبسرڈٹی سے پیدا ہوتا ہے۔ کبیر کی یاوہ گوئی یا بک بک ایک کمال ہے اسے کبیر کی اپنی خواہش کے مطابق اردو ادب کی ایک نئی صبف بک بک قرار دے دینا چاہیہے۔
Rating Appertaining To Books Ghulam Bagh / غلام باغ
Ratings: 4.25 From 116 Users | 12 ReviewsEvaluate Appertaining To Books Ghulam Bagh / غلام باغ
Mirza Athar Baig is a Pakistani novelist, playwright and short story writer. He is associated with the Philosophy Department at the Government College University in Lahore. His fiction works include the novel Ghulam Bagh (The Garden of Slaves) which is considered one of the central works of literature in the Urdu language. The novel has acquired cult following among the youth and prestige amongیہ ناول مرزا صاحب کے عمیق مشاہدہ فلسفہ اور خیالات کا مخ ہے. اس کو مکمل ہونے میں شاید چودہ برس لگے. کسی کی چودہ برس کی ریاضت پر صرف اس لیے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی کو سمجھ نہ آئے. اس ناول کی بارے میں ملی جلی رائے سننے کو ملی. کسی نے تعریف کی اور اس کا مقام کافی اونچا سجھایا. کسی نے اس کو پسند نہ کیا. مگر میرے لیے یہ چیلنج کی حیثیت اختیار کرگیا تھایہ ناول زبر زیر حاکم محکوم مالک غلام اور حاوی محو کا فسانہ ہے. سنا یہی تھا کہ یہ ناول سب کچھ کے بارے میں ہے اور یقین مانیے کہ یہ سچ ہے. اس کےTruly an incommensurable urdu "novel", a manifold of: psycho-dramas, existential-encounters and philosophic-experiments, contrived in a comical "desi" settings, ready to haunt the reader with its bewitching absurdity.
یہ ناول مرزا صاحب کے عمیق مشاہدہ فلسفہ اور خیالات کا مخ ہے. اس کو مکمل ہونے میں شاید چودہ برس لگے. کسی کی چودہ برس کی ریاضت پر صرف اس لیے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی کو سمجھ نہ آئے. اس ناول کی بارے میں ملی جلی رائے سننے کو ملی. کسی نے تعریف کی اور اس کا مقام کافی اونچا سجھایا. کسی نے اس کو پسند نہ کیا. مگر میرے لیے یہ چیلنج کی حیثیت اختیار کرگیا تھایہ ناول زبر زیر حاکم محکوم مالک غلام اور حاوی محو کا فسانہ ہے. سنا یہی تھا کہ یہ ناول سب کچھ کے بارے میں ہے اور یقین مانیے کہ یہ سچ ہے. اس کے

تبصرہ نگار: محمد فاروق بیگمرزااطہر بیگ کا ناول غلام باغ اکیسویں صدی کے نت نئے موضوعات اور فلسفہ ہائے لیے ہوئے غیر روایتی اندازمیں لکھا گیاہے یہ ناول اپنے اندر فلسفیانہ پس منظر رکھتا ہے اس ناول میں مابعد نوآبادیاتی صورتِ حال کی عکاسی بھی کی گئی ہے ناول کا انتساب ارذل نسلوں کے نام ہے جو انسانی فلسفۂ حیات کا منظر نامہ ہےمصنف کے بقول یہ ناول 2001ء میں مکمل ہو گیا تھا لیکن 2006ء میں شائع ہوامرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ کی اشاعت اردو فکشن کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہے بیسویں صدی کے فکشن میں ہونے
i wanr to read it
This is a much hailed modern Urdu novel written by philosophy professor & man of letters Mirza Athar Baig. I had been attracted to it as it promised to be a book of ideas and had heard both high praise as well as some complaints as to its vast volume (878) pages as well as obscurity of theme & languages. It resided in my library for several years and only very recently I go an opportunity to read it after watching an interview with the author.I had an instinctive feeling that if the
kabir mahdi ka character aik intihaai parhakoo aur kaee qalmi namon say liknay wala hai saarnag b uska aik qalmi naam haiwo apan asal kaam apnay asal naam say chapwanay ka khwahish mand hai magar wo nahi kar pata.is character ko parh k lagta hai k mirza athar baig nay human psychology ko kitnay qareeb say observe and study kiya haiabi tau 100 pages parhahay hn magar main chahta hoon k ye kitab kabi khatam na ho


0 Comments:
Note: Only a member of this blog may post a comment.